ان کہے ان سنے لفظ، عقل کا ضائع بچتا ہے
زندگی سے تمہیں نکال لوں تو کیا بچتا ہے
نظم نثر غزل نہ ہی مزاح بچتا ہے
رنگ بارش کرن، نہ ہی قوس قزح بچتا ہے
زندگی سے تمہیں نکال لوں تو کیا بچتا ہے
گر نہ ہوتا مجھ میں تجھ میں یہ رمز کا تعلق
پوچھتا پھرتا میں شہر میں اس خواب کا مطلب
فیصلہ بچھڑنے کا جو تم کر بیٹھے ہو
میرے سمجھانے کا پھر خاک فائدہ خاک مطلب
پاگل تو کچھ پورا ہوگیا ہوں میں
ہمیشہ کے لیے ادھورا ہوگیا ہوں میں
دل میں ایک رنج پالتا ہے میرا
بکھرا، ریزہ، ذرہ، چورا ہوگیا ہوں میں