خون آشامی

Arslan Mehal · · Poetry

آبِ طلخ پر بیٹھے ہوئے شہد کے لب
مٹھاس کڑواہٹ کو مٹا دیتی ہے
ہاتھ پر اراده
ہاتھ پر اراده
ہاتھ پر کمر
کمر پر لحم
لحم پر لحم
اور لحم میں دفن ہوئے چاند کے ٹُکڑے
کڑوا جی کڑوا
مہکی ہوا میں سُرخ چمک کے چمک کے سفر کرتا ہے
کھڑا ہوا روح آشامی، دراز ہوا روح افزا
اک تھا اراده پیار کی سینچائی
دوسرا اراده پیار کی اُجڑائی
اب کڑواہٹ کو موقع ملا