بولنے کے لیے تو کچھ نہ رہا ہم نظم کی طرف مڑے
زبان کو کاٹ کر ہاتھ قلم کی طرف مڑے
بے خودی کی جستجو تھی نگر سے نکلے جنگل تک چلے
پھر اس تنہائی سے بھی نکلے، واپس بزم کی طرف مڑے
نورِ تجدید ایک دم پھیلا، شہر کو پھر ایمان ملا
بُت بھی خدا کو مان پڑے، آخر مذہب کی طرف مڑے
سیدھا راستہ چلتے چلتے اُس کا کوچہ پھر سے آیا
کیوں ہم اپنے امن چھوڑ بھولے الم کی طرف مڑے
لمحوں اور لفظوں کے رشتوں میں لپٹ کر ہم لافہم رہے
بولنا بھاگنا بند کیا، خاموش ازل کی طرف مڑے