بولنے کے لیے تو کچھ نہ رہا ہم نظم کی طرف مڑے

Hasan Khan · · Ghazal

بولنے کے لیے تو کچھ نہ رہا ہم نظم کی طرف مڑے
زبان کو کاٹ کر ہاتھ قلم کی طرف مڑے

بے خودی کی جستجو تھی نگر سے نکلے جنگل تک چلے
پھر اس تنہائی سے بھی نکلے، واپس بزم کی طرف مڑے

نورِ تجدید ایک دم پھیلا، شہر کو پھر ایمان ملا
بُت بھی خدا کو مان پڑے، آخر مذہب کی طرف مڑے

سیدھا راستہ چلتے چلتے اُس کا کوچہ پھر سے آیا
کیوں ہم اپنے امن چھوڑ بھولے الم کی طرف مڑے

لمحوں اور لفظوں کے رشتوں میں لپٹ کر ہم لافہم رہے
بولنا بھاگنا بند کیا، خاموش ازل کی طرف مڑے