اپنی زبان گنوا کر کہیں گرا ہوں میں
لب پہ اک دُعا ، بے صدا پڑا ہوں میں
یہ پہاڑ سکوت ہے ، وہ ندی بیان
ان دونوں کے درمیان کہیں رُکا ہوں میں
مور کی ندا میں اک رمزیہ زبان
لکھ لکھ کر اس کو اب مٹ چکا ہوں میں
ہےاک شجر بہشت میں، لفظوں سے لبریز
شاید ابھی ابلیس سے وہیں ملا ہوں میں
شمسؔ کی تجلّی تو گونجتی ہے عرش پر
خاموش مگر یہ کلام جو لکھ رہا ہوں میں