آغوش میں بن بُلائے سرد ہوا اور رات
فِراق کا پیغام لَے آئے سرد ہوا اور رات
نہ خواہشوں کی کَمی، نامُراد ہے ارمان
ارمانوں کے درمیان چھائے سرد ہوا اور رات
جدائی ناگزیر یہ پروانہ بھول گیا تھا
ناگزیر ہے یہ یاد دلائے سرد ہوا اور رات
لمحہ زودگزر میں دوام کی جستجو تھی
جب اُمیدِ بقا بُجھائے سرد ہوا اور رات
خَموش فِضا میں جِھِجک کی نِدا تَلاشْتا
تب صداۓ رُخصت سُنائے سرد ہوا اور رات
اگر حسنِ واقعہ انجام کا طلبگار ہے
چلو پل کے دم پر اپنائے سرد ہوا اور رات